کیا زیارت اربعین بدعت ہے؟

:سوال

کچھ بدعتی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ اربعین پر امام حسین (ع) کی زیارت کرنا، اور نجف سے کربلا چل کر جانا بدعت ہے۔ ہم لوگوں تک کیا اس بارے میں کوئی خبر پہنچی ہے؟

:جواب

محمد بن حسن طوسی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے آقا حسن عسکری (ع) نے فرمایا: ”مومن کی پانچ علامات ہیں، اکیاون نمازیں (اکیاون رکعت) پڑھنا، اور اربعین پر زیارت کرنا، اور سیدھے ہاتھ پر انگوٹھی پہننا، اور زمین پر ماتھا رکھنا (سجدہ)، اور ’اللہ کے نام سے، جو مہربان اور رحم کرنے والا ہے‘ کو اونچی آواز میں پڑھنا۔“ [إقبال الأعمال تالیف ابن طاووس، صفحہ 66]

الطوسي فيما رواه باسناده إلى مولانا الحسن بن علي العسكري صلوات الله عليه أنه قال: علامات المؤمن خمس: صلاة إحدى وخمسين، وزيارة الأربعين، والتختم باليمين، وتعفير الجبين، والجهر ببسم الله الرحمان الرحيم

ابو الصامت نے کہا کہ امام صادق (ع) نے فرمایا: ”جو شخص حسین (ع) کی قبر پر پیدل آیا، اللہ اُس کے ہر قدم سے ایک ہزار ثواب لکھے گا اور اُس سے ایک ہزار گناہ مٹائے گا، اور اس کے ایک ہزار درجات بلند کرے گا۔“ [كامل الزيارات تالیف ابن قولویہ، صفحہ 279]

وحدثني علي بن الحسين بن موسى بن بابويه وجماعة رحمهم الله، عن سعد بن عبد الله، عن الحسن بن علي بن عبد الله ابن المغيرة، عن العباس بن عامر، عن جابر المكفوف، عن أبي الصامت، قال: سمعت أبا عبد الله (عليه السلام) وهو يقول: من أتى قبر الحسين (عليه السلام) ماشيا كتب الله له بكل خطوة الف حسنة ومحا عنه الف سيئة ورفع له الف درجة

Leave a Reply