ہمارے ائمہ (ع) نے کب تقیہ ترک کیا؟

:حر عاملی لکھتے ہیں

ألا ترى انهم عليهم‌ السلام كثيرا ما كانوا يعملون بالتقية في جزئيات يسيرة من المستحبات والمكروهات ويتركون التقية في الكليات كذم أئمة الضلال ولعنهم

کیا تم نہیں دیکھتے کہ اُنہوں نے، سلام ہو اُن پر، آسان مستحب اور مکروہ معاملوں میں بہت دفع تقيے کے ساتھ عمل کیا اور مطلق (امور) جیسے کہ گمراہی کے ائمہ کی مذمت اور اُن پر لعنت کرنے میں تقیہ ترک کر دیا۔ [الفوائد الطوسية صفحہ 468]

Leave a Reply