صلوات کا واجب اور مستحب ہونا

محمد بن مسلم نے فرمایا کہ امام صادق (ع) یا پھر امام کاظم (ع) نے فرمایا: ”محمد (ص) اور آل محمد (ص) پر درود بھیجنے سے زیادہ بھاری کوئی چیز میزان میں نہیں ہے۔ “ [الكافي تالیف کلینی، جلد 2 صفحہ 494 حدیث 15]

علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن أبي أيوب، عن محمد بن مسلم، عن أحدهما (عليهما السلام) قال: ما في الميزان شئ أثقل من الصلاة على محمد وآل محمد

عبد اللہ بن سنان نے فرمایا کہ امام صادق (ع) نے فرمایا کہ نبی (ص) نے فرمایا: ”مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درود منافقت کو مٹا دیتا ہے۔“ [الكافي تالیف کلینی، جلد 2 صفحہ 492 حدیث 8]

علي بن إبراهيم، عن أبيه، عن ابن أبي عمير، عن عبد الله بن سنان، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله)الصلاة علي وعلى أهل بيتي تذهب بالنفاق

ابو بصیر نے فرمایا کہ امام صادق (ع) نے فرمایا: ”اگر نبی (ص) کا ذکر ہو تو اُن پر کثرت کے ساتھ درود بھیجو، کیونکہ جو شخص ایک بار نبی (ص) پر درود بھیجتا ہے تو اللہ اُس پر، ہزار فرشتوں کی صف میں، ہزار بار درود بھیجتا ہے۔“ [الكافي تالیف کلینی، جلد 2 صفحہ 492 حدیث 6]

عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد بن خالد، عن إسماعيل بن مهران، عن الحسن بن علي بن أبي حمزة، عن أبيه، وحسين بن أبي العلاء، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال: قال: إذا ذكر النبي (صلى الله عليه وآله) فأكثروا الصلاة عليه فإنه من صلى على النبي (صلى الله عليه وآله) صلاة واحدة صلى الله عليه ألف صلاة في ألف صف من الملائكة

عبد السلام بن نعیم نے کہا: ”میں نے امام صادق (ع) سے کہا: ”میں [اللہ کے] گھر (کعبہ) میں داخل ہوا اور مجھے کوئی دعا یاد نہیں آئی سواۓ محمد (ص) اور آل محمد (ص) پر درود کے“ تو امام صادق (ع) نے فرمایا: ”جہاں تک اس کی بات ہے، تو کوئی ایک بھی اس افضل [ذکر] کے ساتھ نہیں نکلا، جس کے ساتھ تم نکلے۔“ [الكافي تالیف کلینی، جلد 2 صفحہ 494 حدیث 17]

عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن محسن بن أحمد، عن أبان الأحمر عن عبد السلام بن نعيم قال: قلت لأبي عبد الله (عليه السلام): إني دخلت البيت ولم يحضرني شئ من الدعاء إلا الصلاة على محمد وآل محمد فقال: أما إنه لم يخرج أحد بأفضل مما خرجت به

حسن بن افضال نے کہا کہ امام رضا (ع) نے فرمایا: ”جو شخص قادر نہیں کہ وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرے، تو اس کو محمد (ص) اور آل محمد (ص) پر درود بھیجنے دو، کیونکہ یہ گناہوں کو تباہی کے ساتھ تباہ کردیتا ہے۔“ [عيون أخبار الرضا تالیف صدوق، جلد 1 صفحہ 265 حدیث 52]

حدثنا أحمد بن الحسن القطان ومحمد بن بكران النقاش ومحمد بن إبراهيم بن إسحاق رضي الله عنهم قالوا: حدثنا أحمد بن محمد بن سعيد الهمداني قال: أخبرنا علي بن الحسن بن علي بن فضال عن أبيه قال: قال الرضا عليه السلام: من لم يقدر على ما يكفر به ذنوبه فليكثر من الصلاة على محمد وآله فإنها تهدم الذنوب هدما

عبد العظیم نے کہا کہ امام علی عسکری (نقی) (ع) نے فرمایا: ”اللہ قوی اور عالی نے ابراہیم (ع) کو صرف اُن کے اکثر محمد [ص] اور انکے اہل بیت پر درود کی وجہ سے دوست لیا۔“ [علل الشرائع تالیف صدوق، جلد 1 صفحہ 34 حدیث 3]

حدثنا أحمد بن محمد الشيباني رضي الله عنه قال: حدثنا محمد بن أحمد الأسدي الكوفي، عن سهل بن زياد الآدمي، عن عبد العظيم بن عبد الله الحسني قال سمعت علي بن محمد العسكري عليه السلام يقول: إنما اتخذ الله عز وجل إبراهيم خليلا، لكثرة صلاته على محمد وأهل بيته صلوات الله عليهم

ابو بصیر نے فرمایا کہ امام صادق (ع) نے فرمایا کہ نبی (ص) نے فرمایا: ”جس شخص کے نزدیک میرا ذکر ہوا اور وہ مجھ پر درود بھیجنا بھول گیا تو اللہ اسے جنت کے راستے سے بھٹکا دے گا۔“ [الكافي تالیف کلینی، جلد 2 صفحہ 495 حدیث 20]

أبو علي الأشعري، عن الحسين بن علي، عن عبيس بن هشام عن ثابت، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله): من ذكرت عنده فنسي أن يصلي علي خطأ الله به طريق الجنة

عبد اللہ ابن علی نے فرمایا کہ نبی (ص) نے فرمایا: ”سارے کنجوسوں سے کنجوس وہ ہے جس کے نزدیک میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔“ [الإرشاد تالیف مفید، جلد 2 صفحہ 169]

رواه إبراهيم بن محمد بن داود بن عبد الله الجعفري، عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن عمارة بن غزية، عن عبد الله بن علي بن الحسين أنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: إن البخيل كل البخيل الذي إذا ذكرت عنده لم يصل علي

ابان بن تغلب نے فرمایا کہ امام باقر (ع) نے فرمایا کہ امام سجّاد (ع) نے فرمایا کہ امام حسین (ع) نے فرمایا کہ امیر المومنین (ع) نے فرمایا کہ نبی (ص) نے فرمایا: ”جس شخص نے مجھ پر درود بھیجا اور میرے آل پر درود نہیں بھیجا تو اسے جنت کی ہوا نہیں ملے گی، اور اُس کی ہوا 500 سال کے سفر پر مل جاتی ہے۔“ [الأمالي تالیف صدوق، صفحہ 267 حدیث 12] 

حدثنا علي بن الحسين بن شاذويه المؤدب (رضي الله عنه)، قال: حدثنا محمد بن عبد الله بن جعفر بن جامع، عن أبيه، قال: حدثني يعقوب بن يزيد، عن محمد بن أبي عمير، عن أبان بن عثمان، عن أبان بن تغلب، عن أبي جعفر محمد بن علي الباقر، عن أبيه علي بن الحسين سيد العابدين، عن أبيه الحسين بن علي سيد الشهداء، عن أبيه علي بن أبي طالب سيد الأوصياء (عليهم السلام)، قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله): من صلى علي ولم يصل على آلي، لم يجد ريح الجنة، وإن ريحها ليوجد من مسيرة خمسمائة عام

:توضیح

جب نبی (ص) کا ذکر ہو تو پھر صلوات پڑھنا واجب ہوجاتا ہے۔ بغیر ذکر کے صلوات پڑھنا مستحب ہے۔ اگر نبی (ص) پر درود پڑھا جائے تو پھر آل محمد (ص) پر بھی درود پڑھنا واجب ہے۔

Leave a Reply