بی بی فاطمہ زہرا (ص) کی ولایت

ابو بصیر (ر) نے فرمایا کہ امام باقر (ع) نے فرمایا: اور اُن (بی بی فاطمہ)، اللہ کا سلام اُن (بی بی فاطمہ) پر [کچھ نسخوں میں سلام کی جگہ صلوات ہے] کی اطاعت فرض تھی اللہ کی مخلوقات میں سے تمام جنّات، انسانوں، پرندوں، جانوروں، انبیاء اور فرشتوں پر۔“ [دلائل الإمامة تالیف ابن جریر ابن رستم طبری، صفحہ 30]

حدثني أبو الحسين محمد بن هارون بن موسى التلعكبري، قال: حدثنا أبي، قال: حدثنا أبو علي محمد بن همام قال: حدثنا جعفر بن محمد بن مالك الفزاري، قال: حدثنا محمد بن أحمد بن حمدان، قال: حدثني علي بن سليمان وجعفر ابن محمد، عن علي بن أسباط، عن الحسين/الحسن بن أبي العلاء وعلي بن أبي حمزة، عن أبي بصير قال أبو جعفر عليه السلام: ولقد كانت صلوات الله عليها/سلام الله عليها طاعتها مفروضة على جميع من خلق الله من الجن، والإنس، والطير، والبهائم/الوحش والأنبياء، والملائكة

امام صادق (ع) نے فرمایا کہ جب امیر المومنین (ع) کے بیٹے ہوۓ فاطمہ (ص) کے ساتھ تو رسول اللہ (ص) چالیس دن ہر صبح آتے تھے اُن (بی بی ص) کے دروازے پر، دروازے پر دستک دیتے تھے پھر فرماتے تھے: ”سلام ہو تم سب پر اے نبوّت کے گھر والوں اور رسالت کے اصول۔۔۔“ [تفسیر فرات الكوفي، صفحہ 126]

فرات قال: حدثنا عثمان بن محمد قراءة عليه معنعنا: عن أبي عبد الله جعفر بن محمد [عليهما السلام]: لما ابتنى أمير المؤمنين بفاطمة فاختلف رسول الله [صلى الله عليه وآله وسلم] إلى بابها أربعين صباحا كل غداة يدق الباب ثم يقول: السلام عليكم يا أهل بيت النبوة ومعدن الرسالة…

موسٰی بن عبداللہ نے کہا کہ ہمارے آقا علی ہادی/نقی (ع) نے فرمایا: (زیارت جامعہ کبیرہ سکھاتے ہوئے) سلام ہو تم سب پر اے نبوّت کے گھر والوں اور رسالت کے اصول ۔۔۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ائمہ راشدین، معصومین، عزت دار، قربت (اللہ کے نزدیک) والے، تقوٰی والے، سچ بولنے والے، انتخاب کیے جانے والے، اللہ کی اطاعت کرنے والے، اُس (اللہ) کے امر سے کھڑے ہونے والے، اُس (اللہ) کے ارادے سے عمل کرنے والے اور اُس (اللہ) کی کرامت سے جیتنے/کامیاب ہونے والے ہیں۔۔۔“ [تھذیب الأحکام تالیف طوسی، جلد 6 صفحہ 107 – 108]

روى محمد بن علي بن الحسين بن بابويه قال: حدثنا علي بن أحمد بن موسى والحسين بن إبراهيم بن أحمد الكاتب قالا: حدثنا محمد بن أبي عبد الله الكوفي عن محمد بن إسماعيل البرمكي قال: حدثنا موسى بن عبد الله النخعي قال: قال مولانا علي الهادي عليه السلام: السلام عليكم يا أهل بيت النبوة، ومعدن الرسالة … واشهد انكم الأئمة الراشدون المهديون المعصومون المكرمون المقربون المتقون الصادقون المصطفون المطيعون لله، القوامون بأمره، العاملون بإرادته، الفائزون بكرامته…

جابر انصاری (ر) نے فرمایا کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: سورج کی پیروی کرو تو اگر سورج غائب ہوجائے پھر چاند کی پیروی کرو، تو اگر چاند غائب ہوجائے پھر زہرہ (انگریزی میں اسے venus کہا جاتا ہے) کی پیروی کرو تو اگر زہرہ غائب ہوجائے پھر فرقدان (دو ستاروں کا نام) کی پیروی کرو“ تو انہوں نے (لوگوں نے) کہا: ’اے رسول اللہ (ص) تو سورج کیا ہے؟ اور چاند کیا ہے؟ اور زہرہ (venus) کیا ہے؟ اور فرقدان کیا ہیں؟‘ تو رسول اللہ (ص) نے فرمایا: ”میں سورج ہوں، اور علی (ع) چاند ہے، اور فاطمہ (ص) زہرہ ہیں، اور فرقدان حسن (ع) اور حسین (ع) ہیں۔“ [معاني الأخبار تالیف صدوق، صفحہ 213]

حدثنا أبو الحسن محمد بن عمر [و] البصري، قال: حدثنا أبو القاسم نصر بن الحسين الصفار النهاوندي بها، قال: حدثنا أبو الفرج أحمد بن محمد بن خوزي السامري، قال: حدثنا أبو بكر القاسم بن إبراهيم القنطري، قال: حدثنا إبراهيم بن خالد الحلواني، قال حدثنا محمد بن خلف العسقلاني، قال: حدثنا محمد بن السري، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال. قال رسول الله صلى الله عليه وآله: اقتدوا بالشمس فإذا غابت الشمس فاقتدوا بالقمر، فإذا غاب القمر فاقتدوا بالزهرة فإذا غابت الزهرة فاقتدوا بالفرقدين فقالوا:
يا رسول الله فما الشمس؟ وما القمر؟ وما الزهرة؟ وما الفرقدان؟ فقال: أنا الشمس، و علي القمر، والزهرة فاطمة، والفرقدان الحسن والحسين.

مفضل بن عمر (ر) نے فرمایا: میں نے امام صادق (ع) سے کہا کہ مجھے خبر دیجئے رسول اللہ (ص) کے قول کے بارے میں جو انہوں (ص) نے فاطمہ (ص) کے بارے میں فرمایا ”وہ دو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں“ کیا وہ (ص) اپنے جہاں کی عورتوں کی سردار ہیں؟ تو امام صادق (ع) نے فرمایا: ”وہ تو مریم (ص) کے لیے ہے، مریم (ص) اپنے جہاں کی عورتوں کی سردار تھیں، اور فاطمہ (ص) دو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں شروع میں سے آخر تک۔“ [معاني الأخبار تالیف صدوق، صفحہ 205]

حدثنا أحمد بن زياد بن جعفر الهمداني – رحمه الله – قال: حدثنا علي بن إبراهيم بن هاشم، عن أبيه، عن محمد بن سنان، عن المفضل بن عمر قال: قلت لأبي عبد الله عليه السلام: أخبرني عن قول رسول الله صلى الله عليه وآله في فاطمة: ” أنها سيدة نساء العالمين ” أهي سيدة نساء عالمها؟ فقال: ذاك لمريم كانت سيدة نساء عالمها، وفاطمة سيدة نساء العالمين من الأولين والآخرين.

Leave a Reply