نماز جمعہ پر شریف مرتضیٰ کا عقیدہ

شریف مرتضیٰ لکھتے ہیں:

نماز جمعہ کی دو رکعات ہوتی ہیں بغیر کسی اضافے کے اور اس کے لئے جمع نہیں ہوتے سوائے کہ امام عادل کے ساتھ یا جس کو امام عادل نے کھڑا کیا ہو، اگر یہ نہیں ہوا [امام زمانہ (ع) موجود نہیں اور امام (ع) نے کسی کو کھڑا نہیں کیا] ظہر کی چار رکعات پڑھی جائیں۔ اور جس کو زبردستی یہ (نماز جمعہ) پڑھائی گئی [حالت تقیہ] ایسے شخص کے ساتھ [پیچھے] جو منصب امامت پر فائز نہیں، تو اس پر واجب ہے کہ وہ اس کے بعد ظہر کی چار (رکعات) پڑھے۔“ [رسائل الشریف المرتضی جلد 1 صفحہ 272]

صلاة الجمعة ركعتان من غير زيادة عليها، ولا جماعة إلا مع إمام عادل، أو من ينصبه الإمام العادل، فإذا عدم ذلك صليت الظهر أربع ركعات. ومن اضطر إلى أن يصليها مع من لا يجوز إمامته تقية، وجب عليه أن يصلي بعد ذلك ظهرا أربعا.

شریف مرتضیٰ کا یہ فتویٰ قول معصوم (ع) سے ثابت ہے:

سماعہ نے کہا کہ: میں نے امام صادق (ع) سے نماز جمعہ کے بارے میں پوچھا، تو امام (ع) نے فرمایا: ”جہاں تک امام (ع) کے ساتھ کی بات ہے تو دو رکعات اور جہاں تک جو بھی اکیلے پڑھے، (اس) کی بات ہے تو یہ چار رکعات ہیں ظہر کی منزلت پر۔“ [الکافی جلد 3 صفحہ 240]

محمد بن يحيى، عن محمد بن الحسين، عن عثمان بن عيسى، عن سماعة قال:
سألت أبا عبد الله (عليه السلام) عن الصلاة يوم الجمعة، فقال: أما مع الامام فركعتان وأما من يصلي وحده فهي أربع ركعات بمنزلة الظهر.

Leave a Reply