امام معصوم کی غیر موجودگی میں نماز جمعہ

:سوال

کیا امام زمانہ (ع) کی غیر موجودگی/غیبت میں نماز جمعہ ہے؟

:جواب

جعفر بن احمد نے کہا کہ امام باقر (ع) نے فرمایا: ”نماز جمعہ فرض ہے، اور اس کے لیے جمع ہونا فرض ہے امام کے ساتھ۔[مستدرک الوسائل تالیف میرزا نوری، جلد 6 صفحہ 14]

جعفر بن أحمد القمي في كتاب العروس: عن أبي جعفر (عليه السلام) أنه قال: صلاة يوم الجمعة فريضة، والاجتماع إليها فريضة مع الإمام

نعمان بن محمد نے کہا کہ امام باقر (ع) نے فرمایا: ”نماز جمعہ واجب ہے سب پر جو بھی ‘فرسخين’ (اندازاً گیارہ کیلومیٹر) میں ہے، اگر عادل امام (موجود) ہے۔ [مستدرک الوسائل تالیف میرزا نوری، جلد 6 صفحہ 12]

دعائم الاسلام: عن أبي جعفر محمد بن علي (عليهما السلام)، أنه قال: تجب الجمعة على كل من كان منها على فرسخين، إذا كان الإمام عدلا

ابو طفیل نے کہا کہ امام علی (ع) نے فرمایا: ”اے ہارونی، بے شک محمد (ص) کے بارہ عدل (عادل) امام ہیں۔ [الکافی جلد 1 صفحہ 340]

عن أبي الطفيل: فَقَالَ يَا هَارُونِيُّ إِنَّ لِمُحَمَّدٍ اثْنَيْ عَشَرَ إِمَامَ عَدْلٍ

امام حسین (ع) نے فرمایا کہ امام علی (ع) نے فرمایا: ”درست فیصلہ نہیں اور حدود (سزا) نہیں اور نماز جمعہ نہیں، سوائے امام کے ساتھ۔ [مستدرک الوسائل تالیف میرزا نوری، جلد 6 صفحہ 13]

عن أبيه أن عليا (عليهم السلام) قال: لا يصح الحكم ولا الحدود ولا الجمعة، إلا بإمام.

نعمان بن محمد نے کہا کہ امام علی (ع) نے فرمایا: ”درست فیصلہ نہیں اور حدود (سزا) نہیں اور نماز جمعہ نہیں، سوائے امام کے ساتھ يا جس کو امام نے کھڑا کیا ہو۔ [فقه الصادق تالیف صادق روحانی، جلد 7 صفحہ 430]

عن دعائم الاسلام عن علي (ع) أنه قال: لا يصلح الحكم ولا الحدود ولا الجمعة إلا للإمام أو من يقيمه الإمام

Leave a Reply